سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
3. مِيرَاثُ امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ وَزَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ
بیوی، والدین اور شوہر کے والدین کا ترکہ
ترقیم دار السلفیہ: 16 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1193
نا نا هُشَيْمٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ , عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لِلأُمِّ ثُلُثُ الأَصْلِ" .
اعمش رحمہ اللہ نے اپنے بعض اساتذہ سے روایت کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ماں کے لیے (ترکہ کے) اصل مال کا تہائی حصہ ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2913، 2919، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 13، 14، 15، 16، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12431، 12432، 12433، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31699، 31702، 31713»
«قال ابن حجر: محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى۔ صدوق، سيئ الحفظ جدا»
«قال ابن حجر: محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى۔ صدوق، سيئ الحفظ جدا»
وضاحت: أعمش کا عنعنہ ہے اور عن بعض اصحاب کا ذکر نہیں ہے
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 17 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1194
نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: عَلَّمَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ" .
عمیر بن سعید نے فرمایا: ”مجھے حارث اعور نے سکھایا کہ شوہر اور والدین کے ترکہ کی تقسیم میں شوہر کو نصف دیا جائے گا، اور ماں کو باقی ماندہ مال کا ایک تہائی حصہ ملے گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
«قال ابن حجر: الحارث بن عبد الله الأعور كذبه الشعبي في رأيه ورمي بالرفض، وفي حديثه ضعف»
«قال ابن حجر: الحارث بن عبد الله الأعور كذبه الشعبي في رأيه ورمي بالرفض، وفي حديثه ضعف»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 18 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1195
نا نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لأَبٍ وَأُمٍّ، وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لأَبٍ، " لِلأَخَوَاتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَسَائِرُ الْمَالِ لِلذَّكَرِ دُونَ الإِنَاثِ" , فَلَمَّا قَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أَتَتْرُكَ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنَ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ".
مسروق بن اجدع رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”جب باپ اور ماں شریک بہنیں موجود ہوں، اور ان کے ساتھ صرف باپ شریک بھائی بہنیں ہوں، تو ماں اور باپ دونوں شریک بہنوں کو دو تہائی ملے گا، اور باقی مال صرف مذکر (یعنی بھائی) کو ملے گا، عورتوں کو کچھ نہ دیا جائے گا۔“ پھر جب میں مدینہ پہنچا اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول سنا تو وہ مجھے پسند آیا۔ تو ان کے بعض ساتھیوں نے کہا: ”کیا آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول چھوڑ دیں گے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں مدینہ آیا تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو علم میں راسخ پایا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1195]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2927، 2933، 2934، 2937، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 18، 19، 26، 27، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12326، 12443، 12608، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19013، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31728، 31729»
أعمش «عن» سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں ہے۔
أعمش «عن» سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 19 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1196
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ:" كَانَ يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ فِي الأَخَوَاتِ لأَبٍ وَأُمٍّ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي الثُّلُثَيْنِ لِلذُّكُورِ دُونَ الإِنَاثِ , فَخَرَجَ خَرْجَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَ وَهُوَ يَرَى أَنْ يُشْرَكَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: مَا رَدَّكَ عَنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ؟ لَقِيتَ أَحَدًا هُوَ أَثْبَتُ فِي نَفْسِكَ مِنْهُ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنِّي لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدْتُهُ مِنَ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ.
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (یعنی میں) پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کرتے تھے کہ باپ اور ماں شریک بہنوں کو دو تہائی دیا جائے، اور جو کچھ باقی بچے وہ صرف بھائیوں (یعنی مردوں) کو دیا جائے، عورتوں کو نہیں۔“ پھر وہ (یعنی مسروق) مدینہ کا سفر کر کے واپس آئے اور اب وہ اس بات کے قائل ہو گئے کہ بھائیوں اور بہنوں کو (باقی مال میں) برابر شریک کیا جائے۔ اس پر علقمہ رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: ”کیا چیز تمہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے ہٹا لائی؟ کیا تم نے کسی ایسے شخص سے ملاقات کی جو تمہاری نظر میں ان سے زیادہ ثابت قدم ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، لیکن میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، اور میں نے انہیں علم میں راسخ پایا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1196]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2927، 2933، 2934، 2937، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 18، 19، 26، 27، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12326، 12443، 12608، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19013، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31728، 31729»
أبومعاویہ کی أعمش سے ان کی ابراھیم سے روایت معتبر ہے۔ تدلیس کے احتمال مؤثر نہیں ہے۔
أبومعاویہ کی أعمش سے ان کی ابراھیم سے روایت معتبر ہے۔ تدلیس کے احتمال مؤثر نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن