صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6217
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، قَالَ سَعِيدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِهَا سَعْدًا، فَلَقِيتُ سَعْدًا: فَحَدَّثْتُهُ بِمَا حَدَّثَنِي عَامِرٌ، فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ، فَقُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَإِلَّا فَاسْتَكَّتَا.
سعید بن مسیب نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ سعید بن مسیب نے کہا: میں نے چاہا کہ یہ بات میں خود حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے منہ سے سنوں تو میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور جو حدیث مجھے عامر نے سنائی تھی، ان کے سامنے بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود) یہ بات سنی تھی، میں نے کہا: آپ نے خود سنی تھی؟ کہا: تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے دونوں کانوں پر رکھیں اور کہا: ہاں، ورنہ (اگر یہ بات نہ سنی ہو) تو ان دونوں کو سنائی نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6217]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میرے ایسے ہو، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہارون (علیہ السلام) تھے، مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ حضرت سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت میں نے عامر بن سعد سے سنی تھی، اس لیے میں نے چاہا کہ یہ روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روبرو سن لوں، سو میری ملاقات حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں عامر کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے یہ سنی ہے، پھر میں نے کہا: کیا آپ نے خود سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھیں اور کہا: ہاں! اگر نہ سنی ہو تو یہ کان بہرے ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6218
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: " خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ".
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) خلیفہ بنایا، تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہارون علیہ السلام کا تھا، لیکن میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6218]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے چھوڑا تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو نسبت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6219
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6219]
یہی روایت امام صاحب کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6220
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا، قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَهُ: خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا، فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.
بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کو برا کہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے کہی تھیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لیے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ان سے (اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے؟“ اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اب میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ کہا: پھر ہم نے اس بات (کے مصداق جاننے) کے لیے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر (ہر طرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کو میرے پاس بلاؤ۔“ انہیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا۔ آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا۔ اور جب یہ آیت اتری: «فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ» ”(تو آپ کہہ دیں: آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6220]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے عامر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تو پوچھا: تمہیں ابوتراب کو برا کہنے سے کون سی چیز روکتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے کہی تھیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لیے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہو گی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے (اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔“ اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: ”اب میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ کہا: پھر ہم نے اس بات (مصداق جاننے) کے لیے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر (ہر طرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کو میرے پاس بلاؤ۔“ انہیں شدید آشوبِ چشم کی حالت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا۔ اور جب یہ آیت اتری: ﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 61] ”(تو آپ کہہ دیں: آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ”اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2404 ترقیم شاملہ: -- 6221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ".
ابراہیم بن سعد نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6221]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسی ہو، جیسی ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2405 ترقیم شاملہ: -- 6222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعَى لَهَا، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ: امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ: فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: عَلَى مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا: ”کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی، کہا: میں نے اس امید کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا: ”جاؤ، پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، یہاں تک کہ اللہ تمہیں فتح عطا کر دے۔“ کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ دور گئے، پھر ٹھر گئے، پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہا: اللہ کے رسول! کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو انہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کر لیے، سوائے اس کے کہ اسی (شہادت) کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6222]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: ”کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی، کہا: میں نے اس امید میں کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا: ”جاؤ، پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، یہاں تک کہ اللہ تمہیں فتح عطا کر دے۔“ کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ دور گئے، پھر ٹھہر گئے، پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو انہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کر لیے، سوائے یہ کہ اسی (شہادت) کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6222]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2406 ترقیم شاملہ: -- 6223
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ هَذَا، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ ".
ابوحازم نے کہا: مجھے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اللہ کے رسول اس کو چاہتے ہوں گے۔“ پھر رات بھر لوگ ذکر کرتے رہے کہ دیکھیں یہ شان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کو دیتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہی امید لے کر آئے کہ یہ جھنڈا مجھے ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان کی آنکھوں میں تھوک لگایا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ بالکل اچھے ہو گئے گویا ان کو کوئی تکلیف نہ تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں ان سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آہستہ چلتا جا، یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترے، پھر ان کو اسلام کی طرف بلا اور ان کو بتا جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کرے تو وہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6223]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: ”میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسول اس کو چاہتے ہوں گے۔“ پھر رات بھر لوگ ذکر کرتے رہے کہ دیکھیں یہ شان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کو دیتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہی امید لیے آئے کہ یہ جھنڈا مجھے ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان کی آنکھوں میں تھوک لگایا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ بالکل اچھے ہو گئے گویا ان کو کوئی تکلیف نہ تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں ان سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آہستہ چلتا جا، یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترے، پھر ان کو اسلام کی طرف بلا اور ان کو بتا جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کرے تو وہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2406
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2407 ترقیم شاملہ: -- 6224
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ابْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ: " أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ، فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ بِالرَّايَةِ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَوَ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ".
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: غزوہ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے، انہیں آشوب چشم تھا۔ پھر انہوں نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا! چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (وہاں سے) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں جھنڈا اس کو دوں گا یا (فرمایا:) کل جھنڈا وہ شخص لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔“ پھر اچانک ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی توقع نہیں تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کر دیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6224]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے، انہیں آشوبِ چشم تھا۔ پھر انہوں نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا! چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (وہاں سے) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں جھنڈا اس کو دوں گا یا (فرمایا:) کل جھنڈا وہ شخص لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔“ پھر اچانک ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی توقع نہیں تھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کر دیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2407
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6225
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: " انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ، قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي: وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ، فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ، وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ، فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ ".
زہیر بن حرب اور شجاع بن مخلد نے اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوحیان نے حدیث بیان کی، کہا: یزید بن حیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم (تینوں) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا: زید! آپ کو خیر کثیر حاصل ہوئی، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، ان کی بات سنی، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں۔ زید! آپ کو خیر کثیر حاصل ہوئی۔ زید! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی (کوئی) حدیث سنائیے۔ (حضرت زید رضی اللہ عنہ نے) کہا: بھتیجے! میری عمر زیادہ ہو گئی، زمانہ بیت گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں، اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو اور جو (بیان) نہ کر سکوں تو اس کا مجھے مکلف نہ ٹھہراؤ۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا: ”اس کے بعد اے لوگو! میں آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔“ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: ”دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں،“ تین بار فرمایا۔ اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6225]
حضرت یزید بن حیان بیان کرتے ہیں کہ میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا: ”اے زید! آپ کو خیرِ کثیر حاصل ہوئی، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ کی بات سنی، آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور آپ کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں، اے زید! آپ کو خیرِ کثیر حاصل ہوئی، اے زید! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی (کوئی) حدیث سنائیے۔“ (حضرت زید رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”بھتیجے! میری عمر زیادہ ہو گئی، زمانہ بیت گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث مجھے یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں، لہٰذا جو میں بیان کروں اسے قبول کرو اور جو (بیان) نہ کر سکوں تو اس کا مجھے مکلف نہ ٹھہراؤ۔“ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی پر ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”امّا بعد! اے لوگو! میں تو بس ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا پیغامبر (موت کا فرشتہ) آئے اور میں اسے قبول کر لوں، میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ کی کتاب کو تھامے رکھو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔“ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی اور اس کی ترغیب دی، پھر فرمایا: ”اور (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔“ حصین نے پوچھا: اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں، لیکن (خاص) اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ (زکوٰۃ) حرام ہے۔ حصین نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ علی کی آل، عقیل کی آل، جعفر کی آل اور عباس کی آل (رضی اللہ عنہم) ہیں۔ حصین نے پوچھا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2408 ترقیم شاملہ: -- 6226
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز (سعید بن مسروق نے) ان (ابوحیان) کی حدیث کے مانند زہیر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6226]
امام صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ایک اور استاد سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2408
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة