سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
209. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑوں کے حق میں دعا کرنے سے متعلق وارد روایات کا بیان۔
ترقیم دار السلفیہ: 2443 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3620
نا نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِي ذَرٍّ وَهُوَ يُمَرِّغُ فَرَسًا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ يَمْسَحُ بِثَوْبِهِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ، إِنَّكَ لَتُحِبُّ فَرَسَكَ هَذَا! قَالَ:" نَعَمْ , وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى هَذَا قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ!" قُلْتُ: وَهَلْ يَدْعُو الْخَيْلُ؟! قَالَ:" نَعَمْ، مَا مِنْ فَرَسٍ إِلا وَلَهُ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَمِنْهَا مَا يُسْتَجَابُ لَهُ، وَمِنْهَا مَا لا يُسْتَجَابُ لَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ، مَلَّكْتَنِي ابْنَ آدَمَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَمَا أَرَى فَرَسِي هَذَا إِلا قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ" .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ اپنے گھوڑے کو مٹی میں لوٹا رہے تھے اور اپنے کپڑے سے صاف کر رہے تھے، کہا گیا: ”آپ اپنے گھوڑے سے محبت کرتے ہیں؟“ فرمایا: ”ہاں، ہر گھوڑے کی دعا ہوتی ہے، اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اپنے مالک کو اس سے محبت دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2443، 2444، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21842»
فرج بن فضالة، عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعفاء
فرج بن فضالة، عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعفاء
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2444 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3621
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّهُ مُرَّ بِهِ عَلَى رَجُلٍ بِالْمِضْمَارِ وَمَعَهُ فَرَسُهُ، فَمَسَكَ بِرَسَنِهِ عَلَى ظِلِّ كَثِيبٍ، فَأَرْسَلَ غُلامَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي ذَرٍّ، فَأَقْبَلَ ابْنُ حُدَيْجٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَى هَذَا الْفَرَسَ قَدْ عَنَّاكَ، وَمَا أَرَى عِنْدَهُ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ :" هَذَا فَرَسٌ قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ حُدَيْجٍ: وَمَا دُعَاءُ بَهِيمَةٍ مِنَ الْبَهَائِمِ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ إِلا أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ كُلَّ سَحَرٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ، خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عَبِيدِكَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي فِي يَدَيْهِ، اللَّهُمَّ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
معاویہ بن حدیج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں مضمضمار کے مقام پر ایک شخص کے پاس سے گزرا جس کے ساتھ اس کا گھوڑا تھا، وہ گھوڑے کو ایک ٹیلے کے سائے میں تھامے کھڑا تھا۔ میں نے اپنے غلام کو بھیجا کہ جا کر معلوم کر کہ یہ کون ہے؟ تو پتا چلا کہ یہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ذر! میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ گھوڑا تمہیں تھکا رہا ہے اور تمہارے پاس کچھ نہیں۔ ابو ذر نے کہا کہا کہا کہ یہ گھوڑا ایک دعا والا گھوڑا ہے۔ ابن حدیج نے کہا: ’جانوروں کی بھی کوئی دعا ہوتی ہے؟‘ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر گھوڑا سحر کے وقت اللہ سے دعا کرتا ہے کہ: اے اللہ! تو نے مجھے ایک اپنے بندے کے سپرد کیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے اس کی نظروں میں اس کے بیٹے، گھر والوں اور مال سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2443، 2444، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21842»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح