🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر ما يجب على المرء من ترك تتبع السبل دون لزوم الطريق الذي هو الصراط المستقيم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ صراطِ مستقیم کو لازم پکڑے اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ چلے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ:" هَذِهِ سُبُلٌ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو لَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ، فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153 الآيَةَ كُلَّهَا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی، جس کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں بھی کھینچی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مختلف راستے ہیں، ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے، جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] بے شک یہ میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تم لوگوں کو اس کے راستے سے بھٹکا دے گا۔ یہ مکمل آیت ہے۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6، 7، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2956، 3260، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11109، 11110، والدارمي فى (مسنده) برقم: 208، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 935، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4225، 4523، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 241، والبزار فى (مسنده) برقم: 1676، 1693، 1717، 1865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں