صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تحري استعمال السنن في أفعاله ومجانبة كل بدعة تباينها-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ اپنے اعمال میں سنت کو اختیار کرے اور ہر بدعت سے بچے جو سنت کے خلاف ہو۔
حدیث نمبر: 10
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ، يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ، وَيَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ" يُفَرِّقُ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ:" أَمَّا بَعْدَ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ شَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ"، ثُمَّ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالا، فَلأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش زیادہ ہو جاتا تھا، یہاں تک کہ یوں لگتا تھا، جیسے آپ کسی لشکر (کے حملے) سے ڈرا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: وہ صبح یا شام کے وقت (تم پر حملہ کر دے گا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔، آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان فرق کرتے تھے اور آپ یہ ارشاد فرماتے تھے: امابعد! سب سے بہترین کلام، اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین ہدایت، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (کی لائی ہوئی) ہدایت ہے۔“، بے شک سب سے برا کام نیا پیدا شدہ کام ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا، تو وہ میری طرف آئیں گے اور ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 10]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (608 و611)، «أحكام الجنائز» (ص29 - 30)، «خطبة الحاجة» (ص34 - 35).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أحمد بن إبراهيم الموصلي: صدوق، وباقي السند على شرط مسلم، وعبد الوهاب الثقفي: هو عبد الوهاب بن عبد المجيد بن الصلت الثقفي، وهو وإن تغير قبل موته بثلاث سنين إلا أن أهله حجبوه في الاختلاط، فلم يرو عنه شيء.