صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن المناهي عن المصطفى صلى الله عليه وسلم والأوامر فرض على حسب الطاقة على أمته-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کے احکام و نواہی امت پر ان کی طاقت کے مطابق فرض ہیں۔
حدیث نمبر: 18
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، وَسُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلُكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، مَا نَهِيَتُكُمْ عَنْهُ، فَانْتَهُوا، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ، فَأْتُوا مَنَهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" ، قَالَ ابْنُ عَجْلانَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ صَالِحٍ، فَقَالَ لِي: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ قَوْلَهُ:" فَأْتُوا مَنَهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
”جن چیزوں کو میں ترک کر دوں، تم ان چیزوں کے بارے میں مجھے ایسے ہی رہنے دو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔
میں تم لوگوں کو جس چیز سے منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور میں تمہیں جس بات کا حکم دوں، تم سے جہاں تک ہو سکے اس پر عمل کرو۔“
ابن عجلان کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابان بن صالح کو سنائی تو انہوں نے مجھے فرمایا۔
یہ کلمہ کتنا عمدہ ہے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان) ”جہاں تک تم سے ہو سکے تم اس پر عمل کرو۔“
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 18]
”جن چیزوں کو میں ترک کر دوں، تم ان چیزوں کے بارے میں مجھے ایسے ہی رہنے دو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔
میں تم لوگوں کو جس چیز سے منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور میں تمہیں جس بات کا حکم دوں، تم سے جہاں تک ہو سکے اس پر عمل کرو۔“
ابن عجلان کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابان بن صالح کو سنائی تو انہوں نے مجھے فرمایا۔
یہ کلمہ کتنا عمدہ ہے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان) ”جہاں تک تم سے ہو سکے تم اس پر عمل کرو۔“
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 18]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (155 و314): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين ما عدا إبراهيم بن بشار الرمادي، وهو حافظ ثقة، أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز. والطريق الثاني حسن.