صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم وإذا أمرتكم بشيء أراد به من أمور الدين لا من أمور الدنيا-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کا فرمان «وإذا أمرتكم بشيء» امورِ دین کے بارے میں ہے، نہ کہ دنیاوی امور کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 22
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ؟"، قَالُوا: النَّخْلُ يَأْبِرُونَهُ، فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ ذَلِكَ"، فَأَمْسَكُوا، فَلَمْ يَأْبِرُوا عَامَّتَهُ، فَصَارَ شِيصًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ، وَكَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کس بات کی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 22]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 22]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3977): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.