صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الزجر عن أن يحدث المرء في أمور المسلمين ما لم يأذن به الله ولا رسوله-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ کوئی شخص مسلمانوں کے معاملات میں ایسی نئی بات پیدا نہ کرے جس کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اجازت نہ دی ہو۔
حدیث نمبر: 26
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَوْصَى بِوَصَايَا أَبَّرَهَا فِي مَالِهِ، فَذَهَبْتُ إِلَى الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَسْتَشِيرُهُ، فَقَالَ الْقَاسِمُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ، فَهُوَ رَدٌّ" .
ابراہیم بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے وصیت کرتے ہوئے اپنے مال کے بارے میں کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا، تو میں قاسم بن محمد کے پاس گیا تاکہ میں ان سے اس بارے میں مشورہ لوں، تو قاسم نے بتایا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ہمارے اس معاملے (یعنی دین) میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا، جس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو تو وہ چیز مسترد کی جائے گی۔“
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 26]
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 26]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (88)، «غاية المرام» (5): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محمد بن خالد بن عبد الله وهو الواسطي الطحان ضعّفه غير واحد، لكن تابعه محمد بن الصباح الدولابي -كما في الرواية التالية- وهو ثقة، والطيالسي، ويعقوب وغيره عند البخاري ومسلم وأبي داود.