Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الله جل وعلا لم ينزل آية واحدة إلا بكمالها-
- ذکر اس خبر کا جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ جل وعلا نے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر مکمل صورت میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ لِي زَيْدًا وَيَجِيءُ مَعَهُ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ، أَوْ بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ"، ثُمَّ قَالَ:" اكْتُبْ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: وَخَلْفَ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي، فَإِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ؟ قَالَ الْبَرَاءُ: فَأُنْزِلَتْ مَكَانَهَا: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔
اہل ایمان میں سے بیٹھے رہنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس زید کو بلا کر لاؤ، وہ اپنے ساتھ لوح اور دوات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شانے کی ہڈی اور دوات لے کر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: تم یہ لکھو۔
اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا عمرو بن ام مکتوم جو نابینا ہیں۔ وہ موجود تھے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ کیونکہ میں، تو نابینا شخص ہوں۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تو اسی جگہ آیت (کے یہ الفاظ) نازل ہوئے۔
جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَحْيِ/حدیث: 40]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، محمد بن عثمان العجلي: هو محمد بن عثمان بن كرامة الكوفي العجلي مولاهم، ثقة من رجال البخاري، وباقي السند على شرطهما0 أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله بن عبيد السبيعي الكوفي أحد الأعلام الأثبات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ"، فَكَتَبَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ: هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ فَنَزَلَتْ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آؤ، پھر آپ نے یہ آیت املاء کروائی۔
اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے، انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی، جب سیدنا ابن مکتوم نے اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے: جنہیں کوئی ضرر نہ ہو۔
«ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَبا إسحق السَّبِيعِيُّ لَمْ يَسْمَعُ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْبَرَاءِ» اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے، جو اس بات کا قائل ہے، ابواسحاق سبیعی نامی راوی نے یہ روایت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَحْيِ/حدیث: 41]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مختصر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں