صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر تسهيل الله جل وعلا طريق الجنة على من يسلك في الدنيا طريقا يطلب فيه علما-
- اس وضاحت کا ذکر کہ جو شخص دنیا میں علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 84
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ الزَّاهِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ الِلَّهِ لَهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص علم کے حصول کے راستے پہ چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے۔ اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 84]
”جو شخص علم کے حصول کے راستے پہ چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے۔ اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 84، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 298، 299، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3643، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2646، والدارمي فى (مسنده) برقم: 356، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8432، 9397، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 26641، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3780»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج علم أبي خيثمة» (113/ 17)، «صحيح أبي داود» (1308): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.