صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
49. ذكر البيان بأن على العالم أن لا يقنط عباد الله عن رحمة الله-
- اس بیان کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ وہ بندوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے۔
حدیث نمبر: 113
سَمِعْتُ سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَضْحَكُونَ، فَقَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَكَ: لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي؟ قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهُمْ، فَقَالَ:" سَدَّدَوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ:" سَدَّدَوا" يُرِيدُ بِهِ: كُونُوا مُسَدَّدَينَ، وَالتَّسْدِيدُ: لُزُومُ طَرِيقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتِّبَاعُ سُنَّتِهِ، وَقَوْلُهُ:" وَقَارِبُوا" يُرِيدُ بِهِ: لا تَحْمِلُوا عَلَى الأَنْفُسِ مِنَ التَّشْدِيدِ مَا لا تُطِيقُونَ، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ لَكُمُ الْجَنَّةَ لَزِمْتُمْ طَرِيقَتِي فِي التَّسْدِيدِ، وَقَارَبْتُمْ فِي الأَعْمَالِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرے، جو ہنس رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز میں جانتا ہوں اگر تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیاہ رویا کرو۔“ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: بے شکاللہ تعالیٰ آپ سے یہ فرما رہا ہے، آپ کیوں میرے بندوں کو مایوس کر رہے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کے پاس واپس تشریف لائے، اور آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ٹھیک رہو۔ میانه روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ ”سددوا“ سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ تسدید اختیار کرنے والے بن جاؤ اور تسدید سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو لازم پکڑنا اور آپ کی سنت کی پیروی کرنا ہے۔ روایت کے الفاظ ”وقار ہوا“ سے مراد یہ ہے: تم اپنے اوپر ایسی شدت لازم نہ کرو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ روایت کے الفاظ ”وابشروا“ سے مراد یہ ہے: تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ جب تم میرے طریقے کو لازم پکڑ لو گے اور اعمال میں میانہ روی اختیار کرو گے تو تمہیں جنت ملے گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 113]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3194)، «تخريج فقه السيرة» (445).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. محمد: هو ابن زياد القرشي الجمحي مولاهم، أبو الحارث المدني.