صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَثَّامٍ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ سُعَيْرَ بْنَ الْخِمْسِ أَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثِ الْوَسْوَسَةِ، فَلَمْ يُحَدِّثْنِي، فَأَدْبَرْتُ أَبْكِي، ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: تَعَالَ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الشَّيْءَ لَوْ خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَخْطَفَهُ الطَّيْرُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ، قَالَ:" ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ" .
علی بن عثام بیان کرتے ہیں: میں سعیر بن خمس کی خدمت میں آیا، تاکہ ان سے وسوسے کے بارے میں حدیث کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے مجھے وہ حدیث بیان نہیں کی، میں روتا ہوا واپس آ گیا، پھر میری ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: آگے آؤ۔ مغیرہ نے ابراہیم کے حوالے سے، علقمہ کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو ایسی چیز کو پاتا ہے یعنی وسوسہ یا منفی خیال پاتا ہے) کہ اگر وہ آسمان سے نیچے گر جائے، اور پرندے اسے اچک لیں تو یہ بات اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اس (وسوسے کے بارے میں) کلام کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ صریح ایمان ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 149]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن عبد الوهاب الفراء، ثقة، وباقي رجال السند على شرط مسلم.