صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
33. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن الإسلام والإيمان بينهما فرقان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے لوگوں کے ایک عالم کو یہ وہم دیا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے
حدیث نمبر: 163
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رِجَالا، وَلَمْ يُعْطِ رَجُلا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا، وَلَمْ تُعْطِ فُلانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ مُسْلِمٌ" قَالَهَا ثَلاثًا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: نَرَى أَنَّ الإِسْلامَ الْكَلِمَةُ، وَالإِيمَانَ الْعَمَلُ.
عامر بن سعد بن وقاص اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطیات دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دے دیا ہے، لیکن فلاں شخص کو کچھ نہیں دیا، حالانکہ وہ مومن ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مومن ہے یا مسلمان ہے؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام سے مراد زبانی طور پر کلمہ پڑھنا ہے، اور ایمان سے مراد عمل کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 27، 1478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 163، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5007، 5008، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11453، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4685، 4683، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1541، 1601، والحميدي فى (مسنده) برقم: 68، 69»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإيمان» لابن أبي شيبة (ص 11 و 12)، «صحيح سنن أبي داود» (4683): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، رجاله رجال الشيخين غير ابن أبي السري، فإنه كثير الأوهام، وقد توبع.