🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن وصف الإسلام والإيمان بذكر جوامع شعبهما-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اسلام اور ایمان کی جامع شاخوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی صفت بیان کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا كَهُمْسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، وَقُلْنَا: لَعَلَّنَا لَقِينَا رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْأَلَهُ عَنِ الْقَدْرِ، فَلَقِيَنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكِلُ الْكَلامَ إِلَيَّ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ ظَهَرَ عِنْدَنَا أُنَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ تَقَفُّرًا، يَزْعُمُونَ أَنْ لا قَدْرَ، وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: فَإِنْ لَقِيتَهُمْ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدْرِ لَمْ يُقَبْلُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَ شَدِيدُ سَوَادِ اللِّحْيَةِ، شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، فَوَضَعَ رُكْبَتَهُ عَلَى رُكْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَالِهِ إِيَّاهُ، وَتَصْدِيقِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي: مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَالِهِ إِيَّاهُ، وَتَصْدِيقِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي: مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ"، قَالَ: فَمَا أَمَارَتُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ"، قَالَ: فَتَوَلَّى وَذَهَبَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ؟" قُلْتُ: لا، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ" .
یحیی بن یعمر بیان کرتے ہیں: میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری حج کرنے کے لئے یا شاید عمرہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ ہم نے یہ سوچا: ہو سکتا ہے، ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی شخص سے ہو جائے، تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کر لیں گے۔ پھر ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا ساتھی یہ چاہے گا کہ اس بات کا آغاز میں کروں ہم نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے ہاں کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں، لیکن وہ یہ گمان رکھتے ہیں، تقدیر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور معاملہ (کسی گزشتہ تقدیر کے بغیر) نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہو، تو انہیں بتا دینا کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کا نام لے کر عبداللہ بن عمر قسم اٹھاتا ہے، اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے اور وہ تقدیر پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اس کا یہ عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک شخص وہاں آیا جس کی داڑھی انتہائی سیاہ تھی اور اس کے کپڑے انتہائی سفید تھے۔ اس نے اپنا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ ملایا اور عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ اس شخص نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں اس شخص کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر اور آپ کی بات کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی۔ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تماللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور تقدیر پر ایمان رکھو، خواہ وہ اچھی یا بری ہو، میٹھی ہو، یا کڑوی ہو۔ اس شخص نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں اس شخص کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر اور آپ کے جواب کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی۔ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تماللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا: آپ مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں جس شخص سے سوال کیا گیا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ اس شخص نے دریافت کیا: اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ کنیز اپنے آقا کو جنم دے گی۔ یہ کہ تم برہنہ پاؤں، برہنہ جسم یعنی ناکافی لباس والے بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے۔ وہ ایک دوسرے کے مقابیل میں بلند عمارات تعمیر کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص مڑ کر چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تین دن بعد میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے عمر! تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے۔ وہ تمہارے پاس اس لئے آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 168]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (63)، «الصحيحة» (2903): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں