🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم أخرجوا من كان في قلبه حبة خردل من إيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کو نکالو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي رَجَاءِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهِيَرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ، يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، قَامَتِ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا، فَيُقَالُ: اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا، ثُمَّ يُقَالُ: اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا: أَنَا الآنَ أُخْرِجُ بِنِعْمَتِي وَبِرَحْمَتِي، فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُمْ، قَدْ امْتَحَشُوا وَصَارُوا فَحْمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ، أَوْ فِي نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَتَسْقُطُ مُحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ ذَلِكَ النَّهَرِ، فَيَعُودُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ: عُتَقَاءُ اللَّهِ، وَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ" الثَّعَارِيرُ: الْقِثَّاءُ الصِّغَارُ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کر دیا جائے گا اور اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو رسول کھڑے ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے۔ تو یہ کہا جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے کہ اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے، تم اسے (جہنم سے نکال دو) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے، پھر یہ کہا جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، تو تم اسے بھی نکال دو، تو وہ لوگ بہت سے لوگوں کو نکال دیں گے۔ (پھر) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے (لوگوں کو جہنم سے) نکالوں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا، اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں نہر میں ڈالا جائے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، تو ان کا جلا ہوا حصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ «الثَّعَارِيرُ» ”ثعاریر“ کی مانند سفید ہو جائیں گے، ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کیے ہوئے ہیں اور (جنت میں) ان کا نام جہنمی ہوگا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الثَّعَارِيرُ» ”ثعاریر“ ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6558، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 191، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 183، 7483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14533، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1282»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «ظلال الجنة» (2/ 404 / 841)، «الصحيحة» (3054). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط يحيى بن أبي رجاء: ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 264، وكناه أبا محمد، وقال: يروي عن زهير بن معاوية، وعتاب بن بشير، وأهل بلده، حدثنا عنه أبو عروبة، مات سنة أربعين ومئتين، وباقي رجاله ثقات إلا أن أبا الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس - مدلس وقد عنعن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں