صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
54. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار بأنهم يعودون بيضا بعد أن كانوا فحما يرش أهل الجنة عليهم الماء-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ وہ لوگ سیاہ ہونے کے بعد سفید ہو جائیں گے اور اہلِ جنت ان پر پانی چھڑکیں گے۔
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوْ قَالَ: بِخَطَايَاهُمْ، حَتَّى كَانُوا فَحْمًا إِذْنَ فِي الشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَبُثُّوا عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ" ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَادِيَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، تو وہ جہنم میں رہیں گے، ان کو موت نہیں آئے گی اور وہ (ٹھیک طرح سے) زندہ نہیں ہوں گے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ (کا عذاب پہنچے گا) (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ان کی خطاؤں کی وجہ سے ہوگا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر ان لوگوں کو گروہ در گروہ لایا جائے گا، انہیں اہل جنت کے سامنے رکھا جائے گا اور کہا جائے گا: «يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ» ”اے اہل جنت! تم ان پر پانی بہاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں سے دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔“ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یوں لگتا ہے، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ویرانوں میں بھی رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 182، 184، 222، 7377، 7379، 7434، 7485، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1551)، «رفع الأستار» (ص 11): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين غير أبي نضرة - واسمه المنذر بن مالك - فإنه من رجال مسلم، وأبو مسلمة: هو سعيد بن يزيد الأزدي.