صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
90. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم مستمعه أن من لقي الله عز وجل بالشهادة حرم عليه دخول النار في حالة من الأحوال-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو سننے والے کو یہ وہم دے سکتی ہے کہ جو شخص اللہ کے حضور شہادت کے ساتھ حاضر ہو، اس پر کسی حال میں جہنم حرام ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، فَاسْتَأذْنُوا رَسُولَ اللَّهِ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِنَا لَقِينَا عَدُوَّنَا جِيَاعًا رَجَّالَةً؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقِيَّةِ أَزْوِدَتِهِمْ، فَجَاؤُوا بِهِ، يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالْحَفْنَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَعْلاهُمُ الَّذِي جَاءَ بِالصَّاعِ مِنَ التَّمْرِ، فَجَمَعَهُ عَلَى نِطَعٍ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ بِمَا شَاءَ الِلَّهِ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ بِأَوْعِيَتِهِمْ، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلا مَمْلُوءٌ وَبَقِيَ مِثْلُهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَأَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلا حَجَبَتَاهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" أَبُو عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ هَذَا: اسْمُهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ.
عبدالرحمن بن ابوعمره انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو لو شدید بھوک لاحق ہو گئی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے سواری کے بعض جانور قربان کر دیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر ہم بھوک کے عالم میں پیادہ ہو کر دشمن کا سامنا کریں گے، تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب سمجھیں، تو آپ لوگوں کو کہیں، ان کے پاس جو کچھ بھی کھانے پینے کی چیز بچی ہوئی ہے، وہ لے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا) تو لوگ وہ چیزیں لانے لگے، ایک شخص ایک مٹھی اناج یا اس سے زیادہ لے آیا۔ جو شخص سب سے زیادہ لے کر آیا تھا، وہ ایک صاع کھجور لے کر آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب کو ایک دسترخوان پر جمع کروایا، پھر جواللہ تعالیٰ کو منظور تھا، وہ آپ نےاللہ تعالیٰ سے دعا مانگی، پھر آپ نے لوگوں کو بلایا کہ وہ اپنے برتن لے آئیں اور آپ نے وہ اناج ان میں ڈالنا شروع کیا، تو لشکر میں موجود کوئی برتن ایسا باقی نہیں رہا، جو بھر نہ گیا ہو، اور وہ اناج پھر اتنا ہی باقی رہ گیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو مومن بندہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان دو باتوں کے ہمراہ حاضر ہو گا، تو یہ دونوں چیزیں اس شخص کے لئے قیامت کے دن جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی۔“
سیدنا ابوعمرہ انصاری کا نام ثعلبہ بن عمرو بن محصن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 221]
سیدنا ابوعمرہ انصاری کا نام ثعلبہ بن عمرو بن محصن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 221]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. [الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ] قال الشيخ: ثقة مدلِّس، لكنّه صرَّح بالتحديث: عند أحمدَ (3/ 417 - 418)، وإسنادُه صحيحٌ. ثُمّ خرّجتُه في «الصحيحة» (3221).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
المطلب بن حنطب: هو المطلب بن عبد الله بن المطلب بن حنطب بن الحارث المخزومي، صدوق، وهو - وإن كان موصوفاً بالتدليس - قد صرح بالتحديث في رواية أحمد والطبراني والبيهقي، وباقي رجاله ثقات.