صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
112. باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
مومنین کی صفات کا بیان - ایک دوسری حدیث کا ذکر جو ہماری بیان کردہ بات کی تصدیق کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ لا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟" فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، فَقَالَ: لأَنْ تَكُونَ قُلْتَ: هِيَ النَّخْلَةُ، أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے، جس کے پتے گرتے نہیں ہیں اور اس کی مثال مسلمان کی مانند ہے، تم لوگ مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگ جنگلات کے مختلف درختوں کے بارے میں غور و فکر کرنے لگے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن مجھے شرم آ گئی۔ پھر لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بتائیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ راوی کہتے ہیں) بعد میں، میں نے اس کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے کہ یہ کھجور کا درخت ہے، تو یہ میرے نزدیک اس، اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 246]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.