🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر إثبات اسم المنافق على المؤخر صلاة العصر إلى اصفرار الشمس-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو نمازِ عصر کو سورج کے زرد ہونے تک مؤخر کرے اس پر منافق کا نام ثابت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلاةِ أَوْ ذَكَرَهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ظہر کے بعد حاضر ہوئے، تو وہ عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ہم نے یا شاید انہوں نے جلدی نماز ادا کرنے کا تذکرہ کیا، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ منافقین کی نماز ہے، یہ منافقین کی نماز ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی: ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے، وہ اس نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں