صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر البيان بأن المرء يرد في القيامة الحوض على المصطفى صلى الله عليه وسلم بقوله الحق عند الأئمة في الدنيا-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت کے دن انسان دنیا میں ائمہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر پہنچے گا۔
حدیث نمبر: 279
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ، أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ:" اسْمَعُوا، أَوْ هَلْ سَمِعْتُمْ، إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نو افراد تھے، جن میں سے پانچ ایک قسم کے تھے اور چار دوسری قسم کے، ان دونوں میں سے ایک گروہ عرب تھا اور دوسرا عجمی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ غور سے سنو، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا تم لوگ سن رہے ہو؟ میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہو گا، اور وہ میرے حوض پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، تو اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا، اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آ سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 150)، «الظلال» (756). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، محمد بن عبد الوهاب: هو القناد السكرين وأبو حَصين: هو عثمان بن عاصم بن حَصين الأسدي الكوفي، وعاصم العدوي: هو الكوفي.