🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار بأن على المرء قبول رخصة الله له في طاعته دون التحمل على النفس ما يشق عليها حمله
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرے اور اپنی جان پر ایسا بوجھ نہ ڈالے جو اس کے لیے دشوار ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا فِي سَفَرٍ، فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ، فقَالَ:" مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ، فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک شخص کو دیکھا جو ایک درخت کے سائے میں موجود تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، تم لوگوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ رخصت قبول کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1115، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2017، 2018، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 355، 3552، 3553، 3554، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2256، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2407، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14413» «رقم طبعة با وزير 356»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 90). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں