🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

139. باب حق الوالدين - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أن مال الابن يكون للأب
والدین کے حقوق کا بیان - اس خبر کا ذکر جس سے بعض ناتجربہ کار لوگ یہ وہم کر بیٹھے کہ بیٹے کا مال باپ کا ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 410
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ، فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الأَجْنَبِيِّينَ، وَأَمَرِ بِبِرِّهِ وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا، إِلَى أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ مَالُهُ، فقَالَ لَهُ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ"، لا أَنَّ مَالَ الابْنِ يَمْلِكُهُ الأَبُ فِي حَيَاتِهِ عَنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَ الابْنِ بِهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے اپنے والد کے ذمے لازم قرض کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ جھگڑا کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس چیز سے منع کیا ہے کہ وہ باپ کے ساتھ ایسا طرز عمل اختیار کرے جس طرح کا سلوک اجنبی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے اور زبان اور فعل کے حوالے سے نرمی کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مال کو اس کے والد کے ساتھ ملا دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے“ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بیٹے کے مال کا مالک باپ بن جاتا ہے، جبکہ بیٹا زندہ ہو اور بیٹے کی یہ خواہش بھی نہ ہو کہ (اس کا باپ اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال کو استعمال کرے))۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 410، 4262» «رقم طبعة با وزير 411»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المشكاة» (3354)، «الإرواء» (838). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، عبد الله بن كيسان هو المروزي أبو مجاهد، قال الحافظ: صدوق يخطئ كثيراً. وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں