🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

157. باب حق الوالدين - ذكر استحباب بر المرء والده وإن كان مشركا فيما لا يكون فيه سخط الله جل وعلا
والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ اگر والد مشرک بھی ہو تو بندہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے بغیر حسن سلوک کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ، فقَالَ: قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ، فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَئِنْ شِئْتَ لآتِيَنَّكَ بِرَأْسِهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ، وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو كَبْشَةَ هَذَا وَالِدُ أُمِّ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ قَدْ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَحْسَنَ دِينَ النَّصَارَى، فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ وَأَظْهَرَهُ، فَعَاتَبَتْهُ قُرَيْشٌ حَيْثُ جَاءَ بِدِينٍ غَيْرِ دِينِهِمْ، فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَيِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَنْسِبُهُ إِلَيْهِ، يَعْنُونَ بِهِ أَنَّهُ جَاءَ بِدَيْنٍ غَيْرِ دِينِهِمْ، كَمَا جَاءَ أَبُو كَبْشَةَ بِدَيْنٍ غَيْرِ دِينَهِمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن ابی کے پاس سے ہوا، وہ اس وقت ایک گنجان درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا، وہ بولا: ابن ابی کبشہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر غبار اڑایا ہے، تو اس کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، اگر آپ چاہیں تو میں اس کا سر لے کر آپ کی خدمت میں آ جاؤں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔ تم اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کی خدمت کرو۔“ ابوکبشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نانی کے والد تھے، یہ شام تشریف لے گئے تھے، انہیں عیسائیوں کا دین اچھا لگا، جب یہ قریش کی طرف واپس تشریف لائے تو انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی، تو قریش نے ان پر ناراضی کا اظہار کیا کہ یہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین پیش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے سے عار دلاتے تھے اور ان کی طرف منسوب کیا کرتے تھے، اس سے قریش کی مراد یہ ہوتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے دین کے علاوہ نیا دین لے کر آئے ہیں، جس طرح جناب ابوکبشہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین لے کر آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 428، والبزار فى (مسنده) برقم: 7978، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 229» «رقم طبعة با وزير 429»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (3223). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط شبيب بن سعيد هو الحبطي أبو سعيد التميمي، قال ابن عدي في "الكامل في الضعفاء" 4/ 1346: حدث عنه ابن وهب بالمناكير وحدث شبيب عن يونس، عن الزهري، نسخة الزهري أحاديث مستقيمة ... ثم قال: وأرجو أن لا يتعمد الكذب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں