صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
300. باب الصحبة والمجالسة - ذكر وصف المتحابين في الله في القيامة عند حزن الناس وخوفهم في ذلك اليوم
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - قیامت کے دن لوگوں کے غم اور خوف کے وقت اللہ کے لیے محبت کرنے والوں کی حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 573
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ، قِيلَ: مَنْ هُمْ لَعَلَّنَا نُحِبُّهُمْ؟ قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِنُورِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَرْحَامٍ وَلا انْتِسَابٍ، وُجُوهُهُمْ نُورٌ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، لا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ"، ثُمَّ قَرَأَ: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس آية 62 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں، جو نبی نہیں ہیں، لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کرتے ہیں۔“ دریافت کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں؟ (ہمیں بھی اس بارے میں بتایا جائے) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو کسی رشتے داری یا کسی اور نسبت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کے چہرے نور والے ہوں گے اور یہ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے؛ جب لوگ خوف زدہ ہوں گے اس وقت انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، جب لوگ غمگین ہوں گے اس وقت انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [سورة يونس: 62] ”خبردار! بیشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ لوگ غمگین ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 573، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11172، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6110، والبزار فى (مسنده) برقم: 9455» «رقم طبعة با وزير 572»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 47 - 48). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الرحمن بن صالح الأزدي روى له النسائي في "حصائص علي" وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين. ابن فضيل: هو محمد، وأبو زرعة: هو ابن عمرو بن جرير بن عبد الله البجلي التابعي، ثقة، روى له الستة.