صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
304. باب الصحبة والمجالسة - ذكر إيجاب محبة الله للمتناصحين والمتباذلين فيه
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اللہ جل وعلا کی محبت کا واجب ہونا ان لوگوں کے لیے جو ایک دوسرے کو نصیحت کرتے اور اس کے لیے ایثار کرتے ہیں
حدیث نمبر: 577
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُو أَنْ أُصِيبَهَا مِنْكَ، وَلا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ: فَلأَيِّ شَيْءٍ؟ قُلْتُ: لِلَّهِ، قَالَ: فَجَذَبَ حُبْوَتِي، ثُمَّ قَالَ: أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلُّهُ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمِ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ" ثُمَّ قَالَ: فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ مُعَاذٍ". فقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " حُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ، وَهُمْ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ بِمَكَانِهِمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَوْبٍ، يَمَانِيٌّ، تَابِعِيٌّ، مِنْ أَفَاضِلِهِمْ وَأَخْيَارِهِمْ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَهُ الْعَنْسِيُّ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: لا، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِنَارٍ عَظِيمَةٍ، فَأُجِّجَتْ وَخَوَّفَهُ أَنْ يَقْذِفَهُ فِيهَا إِنْ لَمْ يُوَاتِهِ عَلَى مُرَادِهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَذَفَهُ فِيهَا، فَلَمْ تَضُرَّهُ فَاسْتَعْظَمَ ذَلِكَ، وَأَمَرَ بِإخْرَاجِهِ مِنَ الْيَمَنِ، فَأُخْرِجَ فَقَصَدَ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ؟ فَأَخْبَرَهُ، فقَالَ لَهُ: مَا فَعَلَ الْفَتَى الَّذِي أُحْرِقَ؟ فقَالَ: لَمْ يَحْتَرِقْ، فَتَفَرَّسَ فِيهِ عُمَرُ أَنَّهُ هُوَ، فقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِاللَّهِ، أَنْتَ أَبُو مُسْلِمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عُمَرُ حَتَّى ذَهَبَ بِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَسُرَّا بِذَلِكَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أُرَانَا فِي هَذِهِ الأُمَّةِ مَنْ أُحْرِقَ فَلَمْ يَحْتَرِقْ، مِثْلَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ: إِنَّهُ كَانَ لَهُ امْرَأَةٌ صَبِيحَةُ الْوَجْهِ، فَأَفْسَدَتْهَا عَلَيْهِ جَارَةٌ لَهُ، فَدَعَا عَلَيْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعْمِ مَنْ أَفْسَدَ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَبَيْنَمَا الْمَرْأَةُ تَتَعَشَّى مَعَ زَوْجِهَا إِذْ قَالَتِ: انْطَفَأَ السِّرَاجُ؟ قَالَ زَوْجُهَا: لا، فَقَالَتْ: فَقَدْ عَمِيتُ، لا أُبْصِرُ شَيْئًا، فَأُخْبِرَتْ بِدَعْوَةِ أَبِي مُسْلِمٍ عَلَيْهَا، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: أَنَا قَدْ فَعَلْتُ بِامْرَأَتِكَ ذَلِكَ، وَأَنَا قَدْ غَرَّرْتُهَا وَقَدْ تُبْتُ، فَادْعُ اللَّهَ يَرُدُّ بَصَرِي إِلَيَّ، فَدَعَا اللَّهَ وَقَالَ: اللَّهُمَّ رُدَّ بَصَرَهَا، فَرَدَّهُ إِلَيْهَا.
ابومسلم خولانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں، لیکن کسی دنیاوی وجہ سے نہیں رکھتا کہ جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ مجھے آپ کی طرف سے وہ مل جائے گی اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کوئی قرابت ہے، جس کی وجہ سے میں یہ محبت رکھتا ہوں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تو پھر کس وجہ سے رکھتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے میری چادر کا کنارہ کھینچا اور پھر ارشاد فرمایا: ”اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو تم یہ خوشخبری حاصل کر لو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن عرش کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور ان لوگوں کے مقام پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔““ راوی بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے انہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی، تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے کی خیر خواہی رکھنے والے لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ یہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے اور ان کے مقام پر انبیاء اور صدیقین رشک کریں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومسلم خولانی نامی راوی کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، یہ یمانی ہیں اور تابعی ہیں۔ یہ تابعین میں سے فضیلت رکھنے والے اور بہتر لوگوں میں سے ایک ہیں۔ یہ وہ ہیں جن سے عنسی نے یہ کہا تھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ اس نے پھر دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ عنسی کے حکم کے تحت ڈھیر ساری آگ جلائی گئی، تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا، اگر وہ اس کی مراد میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے، لیکن انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، تو اس نے انہیں آگ میں ڈال دیا، لیکن انہیں آگ کا کوئی نقصان نہیں ہوا، تو عنسی نے اس بات کو بہت بڑا شمار کیا۔ اس کے حکم کے تحت انہیں یمن بھجوا دیا گیا۔ انہیں وہاں سے نکالا گیا، تو یہ مدینہ منورہ آ گئے، وہاں ان کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا: ”کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے اس بارے میں بتایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اس نوجوان کا کیا بنا جس کو جلایا گیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا: ”وہ جلا نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگا لیا کہ یہی وہ صاحب ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم ابومسلم ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور انہوں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، تو وہ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما اس پر بہت خوش ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں اس امت میں ایسا شخص دکھایا ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح جلایا گیا، لیکن وہ جلا نہیں۔“ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے: ان کی اہلیہ بہت خوبصورت تھیں۔ ان کی ایک پڑوسن نے اس خاتون کو خراب کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے اس کو بد دعا دی: ”اے اللہ! جو میری بیوی کو خراب کرنا چاہتا ہے، تو اسے اندھا کر دے۔“ تو وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی رات کا کھانا کھا رہی تھی، اسی دوران اس نے دریافت کیا: ”کیا تم نے چراغ بجھا دیا ہے؟“ اس کے شوہر نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ تو اس نے کہا: ”میں اندھی ہو گئی ہوں، مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔“ پھر اس عورت کو ابومسلم کی اسے دی گئی بد دعا کے بارے میں بتایا گیا تو وہ عورت ان کے پاس آئی اور بولی: ”میں نے آپ کی بیوی کے بارے میں اس طرح کرنے کی کوشش کی تھی، میں نے اسے دھوکہ بھی دیا، اب میں توبہ کرتی ہوں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ میری بینائی کو واپس کر دے۔“ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور یہ کہا: ”اے اللہ! اس عورت کی بینائی کو واپس کر دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بینائی کو واپس کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3507، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 575، 577،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5213، 7407، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22424» «رقم طبعة با وزير 576»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 47). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد، أبو المليح هو الحسن بن عمر بن يحيى الفزاري، ومخلد بن أبي زميل: هو مخلد بن الحسن بن أبي زميل الحراني نزيل بغداد، قال أبو حاتم: صدوق. وقال النسائي: لابأس به.