🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

331. باب العزلة - ذكر البيان بأن العزلة عن الناس أفضل الأعمال بعد الجهاد في سبيل الله
تنہائی کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ لوگوں سے تنہائی اللہ کے راستے میں جہاد کے بعد افضل اعمال میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ، فقَالَ: " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلا"؟ فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى عُقِرَتْ أَوْ يُقْتَلَ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ"؟ قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ"؟ قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلا يُعْطِي بِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے، وہ اس وقت ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کے سر پکڑ کر (جہاد کے لیے جائے)، یہاں تک کہ اس (گھوڑے) کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا وہ شخص قتل کر دیا جائے، کیا میں تمہیں اس سے بعد والے شخص کے بارے میں بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شر سے لاتعلق رہتا ہو، کیا میں تمہیں سب سے زیادہ برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس سے اللہ کے نام سے مانگا جائے اور وہ نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 604، 605، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2391، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2568، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1652، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2440، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2434، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2012» «رقم طبعة با وزير 603»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (255)، «التعليق الرغيب» (2/ 173). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل سعيد بن خالد القارظي، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين غير إسماعيل بن عبد الرحمن وهو ثقة روى له النسائي. حبان: هو ابن موسى، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن أبي ذئب هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث بن أبي ذئب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں