🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. باب قراءة القرآن - ذكر أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم بعض أمته أن يقرأ عليه القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کا ذکر کہ انہوں نے اپنی امت کے بعض لوگوں کو قرآن ان پر پڑھنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي". فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 نَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے سامنے تلاوت کرو۔“ میں نے عرض کی: کیا میں آپ کے سامنے تلاوت کروں جبکہ قرآن آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اسے دوسرے کی زبانی سنوں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء پڑھنی شروع کی، جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”اس وقت کیا عالم ہو گا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے۔“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4582، 5049، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 800، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1454، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 735، 7065، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3668، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3024، 3025، 3026، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4194، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 51، 53، 56، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21119، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3620» «رقم طبعة با وزير 732»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (192): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الغفار بن عبد اللَّه ذكره ابن حبان في «الثقات»، وترجمه ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقد توبع عليه كما سيأتي، وباقي رجال الإسناد ثقات، إبراهيم هو النخعي، وعَبيدة -بفتح العين- هو ابن عمرو السلماني المرادي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں