صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
125. باب قراءة القرآن - ذكر أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم بعض أمته أن يقرأ عليه القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کا ذکر کہ انہوں نے اپنی امت کے بعض لوگوں کو قرآن ان پر پڑھنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 735
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي". فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 نَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے تلاوت کرو میں نے عرض کی: کیا میں آپ کے سامنے تلاوت کروں جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں میں دوسرے کی زبانی اسے سنوں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء پڑھنی شروع کی جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ”اس وقت کیا عالم ہو گا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 732»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (192): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عبد الغفار بن عبد اللَّه ذكره ابن حبان في «الثقات»، وترجمه ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقد توبع عليه كما سيأتي، وباقي رجال الإسناد ثقات، إبراهيم هو النخعي، وعَبيدة -بفتح العين- هو ابن عمرو السلماني المرادي.
الرواة الحديث:
عبيدة بن عمرو السلمانى ← عبد الله بن مسعود