صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
200. باب الأذكار - ذكر مباهاة الله جل وعلا ملائكته بذاكره إذا قرن مع الذكر التفكر
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کے اپنے فرشتوں کے سامنے اس شخص پر فخر کرنے کا ذکر جو اسے ذکر کے ساتھ تفکر کے ساتھ یاد کرتا ہے
حدیث نمبر: 813
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" مَا يُجْلِسُكُمْ؟" قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلامِ، وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ:" آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ؟" قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلائِكَةَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا: ”تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟“ لوگوں نے بتایا: ”ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے، اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہوئے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لیے تم سے قسم نہیں لی ہے، بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 813، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5441، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17110، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7387، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30083، والطبراني فى(الكبير) برقم: 701، 788، 854» «رقم طبعة با وزير 810»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 72). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الدورقي والسعدي، فمن رجال مسلم.