صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
255. باب الأدعية - ذكر الأمر للمرء أن يسأل ربه جل وعلا جوامع الخير ويتعوذ به من جوامع الشر
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اپنے رب جل وعلا سے جامع خیر مانگنا چاہیے اور جامع شر سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، مَا لا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حمادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ وہ یہ دعا مانگیں: ”اے اللہ! میں تجھ سے ساری بھلائی کی دعا کرتا ہوں، خواہ وہ جلدی ملے یا دیر سے ملے، مجھے اس کا علم ہو یا مجھے اس کا علم نہ ہو اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے ہو، خواہ مجھے اس کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے تجھ سے مانگی ہے اور ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کر دینے والے قول اور میں جہنم سے جہنم کے قریب کر دینے والے قول سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں، تو نے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ بہتر کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1542).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات، ويغلب على الظن أن الصواب إثبات جبر بن حبيب في السند بين الجريري وأم كلثوم، لأن البخاري رواه في «الأدب المفرد» من طريق الجريري، عن جبر بن حبيب عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن أحمد وابن ماجه روياه من طريق حماد بن سلمة، أخبرني جبر بن حبيب، عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن الحاكم رواه من طريق شعبة، عن جبر بن حبيب، عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن كتب الرجال لم تذكر أن الجريري يروي عن أم كلثوم مباشرة، انما بواسطة جبر بن حبيب، لكن لا يستبعد أن يكون الجريري أدرك أم كلثوم، فقد ولدت في سنة 13 هـ، وتوفي الجريري سنة 144 هـ.