صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
259. باب الأدعية - ذكر البيان بأن المرء إذا دعا الله جل وعلا بنية صحيحة وعمل مخلص قد يستجاب له دعاؤه وإن كان الشيء المسؤول معجزة
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اگر آدمی خالص نیت اور مخلص عمل کے ساتھ اللہ جل وعلا سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو سکتی ہے، چاہے مانگی ہوئی چیز معجزہ ہی کیوں نہ ہو
حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ، قَالَ لِلْمَلِكِ: إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلامًا أُعَلِّمُهُ السِّحْرَ، فَبَعَثَ لَهُ غُلامًا يُعَلِّمُهُ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ، وَسَمِعَ كَلامَهُ وَأَعْجَبَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ، ضَرَبَهُ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْ عِنْدِ السَّاحِرِ، قَعَدَ إِلَى الرَّاهِبِ، وَسَمِعَ كَلامَهُ، فَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، فَقَالَ لَهُ: إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ: حَبَسَنِي أَهْلِي، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ، فَقُلْ: حَبَسَنِي السَّاحِرُ. فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسْتِ النَّاسَ، فَقَالَ: الْيَوْمَ أَعْلَمُ: الرَّاهِبُ أَفْضَلُ أَمِ السَّاحِرُ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا، وَمَضَى النَّاسُ، فَأَتَى الرَّاهِبَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: أَيْ بُنَيَّ، أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلا تَدُلَّ عَلَيَّ. فَكَانَ الْغُلامُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ، وَيُدَاوِي سَائِرَ الأَدْوَاءِ. فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ، كَانَ قَدْ عَمِيَ، فَأَتَى الْغُلامَ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَا هُنَا لَكَ أَجْمَعُ، إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي، قَالَ: إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ، فإِنْ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ. فَأَتَى الْمَلِكَ يَمْشِي يَجْلِسُ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، فَقَالَ الْمَلِكُ: فُلانُ! مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ؟ قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي؟ قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ وَاحِدٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلامِ. فَجِيءَ بِالْغُلامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: أَيْ بُنَيَّ، قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ؟ قَالَ: إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ. فَأَخَذَهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ، فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشُقَّ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ. ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ، فَقِيلَ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ. ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلامِ فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبِي، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلا فَاطْرَحُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَسَقَطُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَدَفَعَهُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ، فَوَسِّطُوا بِهِ الْبَحْرَ، فَلَجِّجُوا بِهِ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلا فَاقْذِفُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَقَالَ لِلْمَلِكِ: وَإِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِكَ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ، ثُمَّ ارْمِنِي، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي. فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ صَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ، ثُمَّ رَمَاهُ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ، ثَلاثًا. فَأُتِيَ الْمَلِكُ، فَقِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ. فَأَمَرَ بِالأُخْدُودِ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ، فَخُدَّتْ، وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ، وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا الْغُلامُ: يَا أُمَّهِ اصْبِرِي، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ" .
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ عمر رسیدہ ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں تم میرے پاس کسی لڑکے کو بھیجو تاکہ میں اسے جادو کی تعلیم دوں، تو بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکے کو بھیجا تاکہ وہ اسے تعلیم دینا شروع کرے ابھی وہ لڑکا راستے میں جا رہا تھا کہ وہاں سے ایک راہب کا گزر ہوا وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا اس کو اس کی باتیں اچھی لگیں جب وہ جادوگر کے پاس آیا، تو جادوگر نے اسے مارا جب وہ جادوگر کے پاس سے واپس آیا، تو راہب کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا۔ جب وہ اپنے گھر آیا، تو گھر والوں نے اسے مارا اس نے اس بات کی شکایت راہب سے کی، تو راہب نے کہا: جب تمہیں جادوگر سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا مجھے گھر والوں نے نہیں آنے دیا تھا اور جب تمہیں گھر والوں سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا جادوگر نے مجھے روک لیا تھا۔ اسی طرح ہوتا رہا اسی دوران ایک مرتبہ اس لڑکے کا گزر ایک بڑے جانور کے پاس سے ہوا جس نے لوگوں کو گزرنے سے روکا ہوا تھا۔ اس لڑکے نے سوچا آج یہ بات میں جان لوں گا کہ راہب فضیلت رکھتا ہے یا جادوگر؟ اس نے ایک پتھر لیا اور پھر کہا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے، تو اس جانور کو مار دے تاکہ لوگ وہاں سے گزر جائیں پھر اس نے وہ پتھر اس جانور کو مار کر قتل کر دیا، تو لوگ وہاں سے گزر گئے۔ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا، تو راہب نے اسے کہا: اے میرے بیٹے آج تم مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہو عنقریب تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اگر تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے، تو تم میری طرف کسی کی رہنمائی نہ کرنا پھر وہ لڑکا پیدائشی نابینا لوگوں اور برص کے شکار لوگوں کو ٹھیک کرنے لگا۔ وہ تمام بیماریوں کی دوا دینے لگا (یعنی انہیں ٹھیک کرنے لگا) بادشاہ کے ایک مصاحب کو اس کے بارے میں پتہ چلا جو نابینا ہو چکا تھا۔ وہ بہت سے تحائف کے ہمراہ اس لڑکے کے پاس آیا اور بولا: اگر تم نے مجھے شفا دیدی، تو یہ سب کچھ تمہیں مل جائے گا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا شفا، تواللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تماللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ، تو میںاللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ وہ تمہیں شفا دے گا، تو وہ شخصاللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا۔اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے ہاں پہلے کی طرح آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: فلاں شخص تمہاری بینائی کیسے واپس آئی اس نے جواب دیا: میرے پروردگار نے واپس کی ہے۔ بادشاہ نے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے۔ اس نے کہا: میرا اور تمہارا پروردگار ایک ہے۔ اس کے بعد بادشاہ اس شخص کو تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں رہنمائی کر دی پھر اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس سے کہا: اے لڑکے اب تمہارا جادو اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ تم پیدائشی نابینا اور برص کے شکار اور فلاں فلاں شخص کو ٹھیک کر دیتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو ٹھیک نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو پکڑا وہ اسے مسلسل تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کی طرف رہنمائی کر دی۔ اس راہب کو لایا گیا، اس سے یہ کہا: گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ اس راہب نے اس بات کو نہیں مانا، تو پھر ایک ”آرا“ لایا گیا وہ ”آرا“ اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اور اسے چیر دیا گیا، یہاں تک کہ اس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا۔ اسے کہا: گیا تم اپنے دین سے پھر جاؤ، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو وہی آرا اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اسے بھی چیر کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور اسے کہا: گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ اس لڑکے نے بھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو ساتھیوں کے سپرد کیا اور کہا: اسے لے کر فلاں فلاں پہاڑ کی طرف جاؤ اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ جاؤ جب تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے نیچے پھینک دینا۔ وہ لوگ اسے ساتھ لے کر گئے اسے ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اس لڑکے نے دعا کی اے اللہ، تو ان لوگوں کے حوالے سے جیسے چاہے میرے لئے کافی ہو جا، تو پہاڑ کانپنے لگا اور وہ لوگ نیچے گر گئے۔ وہ لڑکا چلتا ہوا پھر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا۔ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لئے کافی ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ سپرد کیا اور کہا: اسے ساتھ لے کر جاؤ اسے کشتی میں بٹھاؤ اور اس کو لے جا کر سمندر کے درمیان میں لے جاؤ وہاں اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے دریا میں ڈال دینا وہ اسے ساتھ لے کر گئے، تو لڑکے نے کہا: اے اللہ، تو ان لوگوں کے مقابلے میں جیسے چاہے میرے لئے کفایت کر لے، تو ان لوگوں کی کشتی الٹ گئی (باقی سب لوگ ڈوب گئے) وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا۔ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لئے کافی ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک تم وہ کام نہیں کرو گے، جس کی میں تمہیں ہدایت کروں گا۔ بادشاہ نے دریافت کیا: وہ کیا ہے اس نے کہا: تم لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو پھر مجھے کھجور کے درخت پر صلیب پر لٹکاؤ پھر اپنے ترکش میں سے ایک تیر لو، پھر اس تیر کو کمان میں لگاؤ اور پھر یہ کہو اس لڑکے کے پروردگاراللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں یہ تیر چلانے لگا ہوں) پھر وہ تیر مجھے مار دینا جب تم ایسا کرو گے، تو تم مجھے قتل کر دو گے۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اس لڑکے کو کھجور کے درخت پر لٹکایا پھر اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان میں رکھا اور یہ کہا: اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں تیر چلانے لگا ہوں) پھر بادشاہ نے اسے تیر مارا وہ تیر اس کی کنپٹی پر لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کی جگہ رکھا اور انتقال کر گیا۔ لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آتے ہیں۔ ہم ایمان لے آتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ (مصاحبین) نے بادشاہ کو آ کر بتایا کہ تم نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ تم جس چیز سے بچنا چاہ رہے تھے وہی صورت حال سامنے آ گئی ہے۔ وہ ایمان لے آئے ہیں، تو بادشاہ کے حکم کے تحت مختلف جگہ پر گڑھے کھودے گئے۔ ان میں آگ جلائی گئی بادشاہ نے حکم دیا جو شخص اپنے دین سے رجوع نہیں کرے گا تم لوگ اسے جلا دو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی تو لڑکے نے کہا: امی جان آپ صبر سے کام لیجئے۔ آپ حق پر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 870»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم.