صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
272. باب الأدعية - ذكر البيان بأن الأمر بدعاء الاستخارة لمن أراد أمرا إنما أمر بذلك بعد ركوع ركعتين غير الفريضة
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ کسی کام کے ارادے پر دعائے استخارہ کا حکم اس وقت دیا گیا جب فرض کے علاوہ دو رکعت ادا کی جائیں
حدیث نمبر: 887
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى يُعَلِّمُنَا الاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ. اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَقَدِّرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَادِي وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَقَدِّرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، وَرَضِّنِي بِهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم اسی طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ فرماتے تھے۔ ”جب بھی کوئی شخص کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے، تو پہلے دو رکعات نفل ادا کرے پھر وہ یہ دعا مانگے۔“ ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے صلاحیت طلب کرتا ہوں تیرے عظیم فضل کا تجھ سے سوال طلب کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے ولا ہے۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے، تو یہ کام، یہاں وہ اس کام کا نام لے میرے دین میری زندگی اور میرے حق میں آخرت کے حوالے سے بہتر ہے۔ تو اسے میرے لئے مقدر کر دے۔ اسے میرے لئے آسان کر دے اس میں برکت رکھ دے اور اگر یہ میرے دین میری آخرت میری زندگی اور میری عاقبت کے حوالے سے میرے حق میں برا ہے، تو پھر اسے مجھ سے پھیر دے اور میرے لئے بھلائی کو مقدر کر دے، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 887]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 884»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1376): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن أبي الموال فمن رجال البخاري.