صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
330. باب الأدعية - ذكر الأمر بسؤال العبد ربه جل وعلا المغفرة والرحمة والهداية والرزق
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے مغفرت، رحمت، ہدایت اور رزق مانگے
حدیث نمبر: 946
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَلامًا أَقُولُهُ، قَالَ:" قُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ". قَالَ: هَؤُلاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كُلُّ مَا فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَمَا يُشْبِهُهَا مِنَ الأَلْفَاظِ إِنَّمَا أُرِيدَ بِهَا الثَّبَاتُ عَلَى الْهُدَى وَالزِّيَادَةُ فِيهِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُؤْمِنَ الْمُؤْمِنُ بِسُؤَالِ الزِّيَادَةِ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ قَبْلَ ذَلِكَ.
مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسے کلام کی تعلیم دیجیے جسے میں پڑھا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اور تمام حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہے، بہت زیادہ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت نہیں ہے، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔““ اس شخص نے عرض کی: یہ کلمات تو میرے پروردگار کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہوں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، تو مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور تو مجھے رزق عطا کر۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں جو یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: ”اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے۔“ اور ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں“ اور اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں، ان سے مراد ہدایت پر ثابت قدم رہنا اور اس میں اضافہ ہونا ہے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی مومن ہدایت کا سوال کرے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے اسے ہدایت دے چکا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2696، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1581، 1633، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 768، 796، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 136، والبزار فى (مسنده) برقم: 1161، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29962» «رقم طبعة با وزير 942»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الكلم الطيب» (14). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، موسى الجهني: هو موسى بن عبد الله، ويقال: ابن عبد الرحمن الجهني أبو سلمة الكوفي ثقة عابد من رجال مسلم.