🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

357. باب الأدعية - ذكر ما يجب على المرء الدعاء على أعدائه بما فيه ترك حظ نفسه
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے لیے دعا کرے لیکن اپنی ذات کے حصے کو ترک کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَعْنِي هَذَا الدُّعَاءُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي" ذَنْبَهُمْ بِي مِنَ الشَّجِّ لِوَجْهِي، لا أَنَّهُ دُعَاءٌ لِلْكُفَّارِ بِالْمَغْفِرَةِ، وَلَوْ دَعَا لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ لأَسْلَمُوا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لا مَحَالَةَ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا غزوہِ احد کے دن مانگی تھی، جب آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا۔ آپ نے یہ فرمایا تھا: «رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي» ”اے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے۔“ یعنی ان کے اس گناہ کی مغفرت کر دے جو انہوں نے میرے چہرے کو زخمی کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، کفار کے لیے مغفرت کی دعا مانگی جا رہی ہے، کیونکہ اگر آپ اس وقت ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگ لیتے تو وہ لازمی طور پر اسی وقت مسلمان ہو جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 243، 2903، 2911، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1790، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 973، 6578، 6579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6504، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9191، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2085، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3464، 3465، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2847، 2848، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23262، 23293، والحميدي فى (مسنده) برقم: 958» «رقم طبعة با وزير 969»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (3175). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله رجال الصحيح إلا أن محمد بن فليح فيه كلام ينزل حديثة إلى رتبة الحسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں