🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. باب سنن الوضوء - ذكر الزجر عن ابتداء المرء في وضوئه بفيه قبل غسل اليدين
وضو کی سنتوں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی وضو میں اپنے منہ سے شروع نہ کرے قبل اس کے کہ ہاتھ دھو لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا جُبَيْرٍ الْكِنْدِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، وَقَالَ:" تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ"، فَبَدَأَ بِفِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَبْدَأْ بِفِيكَ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يَبْدَأُ بِفِيهِ"، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ .
عبدالرحمان بن جندب اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ابوجبیر کندی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وضو کا پانی لانے کے لیے حکم دیا اور ارشاد فرمایا: ”اے ابوجبیر! تم جاؤ اور وضو کرو۔“ انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے آغاز کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے منہ کے ذریعے آغاز نہ کرو، کیونکہ کافر شخص اپنے منہ کے ذریعے آغاز کرتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے، انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں دھو لیے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1089، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 211، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 178، 179» «رقم طبعة با وزير 1086»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2820). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد رجاله رجال مسلم، ما عدا صحابيه أبا جبير واسمه: نفير بن مالك بن عامر الحضرمي، وفد على النبي صلى اللَّه عليه وسلم، وعِداده في أهل الشام.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں