🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن النوم لا يوجب الوضوء على النائم في بعض الأحوال
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض لوگوں کے عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ بعض حالتوں میں نیند سونے والے پر وضو واجب نہیں کرتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّلاةَ الصَّلاةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر وہ بیدار ہو گئے، پھر وہ سو گئے، پھر بیدار ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: نماز، نماز! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں یہ ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں (یعنی عشاء کی نماز کو اسی وقت میں ادا کریں)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 571، 7239، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 642، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 342، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1098، 1532، 1533، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1951، 3535، والحميدي فى (مسنده) برقم: 499» «رقم طبعة با وزير 1095»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن النسائي» (517)، ويأتي (1530): ق. تنبيه!! رقم (1530) = (1532) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عمرو بن علي هو الفلاس، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں