صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
88. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أن هذا الخبر معلول
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ خبر معیوب ہے
حدیث نمبر: 1126
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَاتِ الإِبِلِ فَنَهَى عَنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو ثَوْرِ بْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ اسْمُهُ: جَعْفَرٌ، وَكُنْيَةُ أَبِيهِ: أَبُو ثَوْرٍ، فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ هُوَ: أَبُو ثَوْرِ بْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، رَوَى عَنْهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ. فَمَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ تَوَهَّمَ أَنَّهُمَا رَجُلانِ مَجْهُولانِ، فَتَفَهَّمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ كَيْلا تُغَالِطُوا فِيهِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ سے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے اس بات کی اجازت دی اور آپ سے اونٹوں کے باڑے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے اس سے منع کر دیا۔ آپ سے بکری کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوثور بن عکرمہ بن جابر بن سمرہ، ان کا نام جعفر ہے۔ ان کے والد کی کنیت ابوثور ہے۔ جعفر بن ابوثور جو ہیں، وہ ابوثور بن عکرمہ بن جابر بن سمرہ ہیں۔ ان کے حوالے سے عثمان بن عبداللہ بن موہب، اشعث بن ابوشعثاء سماک بن حرب نے احادیث نقل کی ہیں جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ یہ دو مجہول آدمی ہیں۔ اس لئے آپ اس بات کا فہم حاصل کر لیں اللہ آپ پر رحم کرے تاکہ آپ اس بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1123»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن