🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

117. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الأمر بالوضوء من لحوم الإبل هو المستثنى مما أبيح من ترك الوضوء مما مست النار
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے جو آگ سے متاثرہ چیز سے وضو ترک کرنے کی اجازت دی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ". قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ". قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" لا" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے دریافت کیا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کیا کریں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔“ اس نے عرض کی: ”کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، تم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرو۔“ میں نے عرض کی: ”کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لوں؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے عرض کی: ”کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 1126، 1127، 1154، 1156، 1157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143» «رقم طبعة با وزير 1153»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر رقم (1121). تنبيه!! رقم (1121) = (1124) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح وهو مكرر (1124) و (1154).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں