🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

118. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ إِنْ شِئْتَ". وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" صَلِّ إِنْ شِئْتَ". وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ". وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَاتِ الإِبِلِ، فَقَالَ:" لا تُصَلِّ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم دریافت کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو وضو کر لو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو (وہاں) نماز ادا کر لو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم وضو کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس (جگہ) پر نماز ادا نہ کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 1126، 1127، 1154، 1156، 1157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143» «رقم طبعة با وزير 1154»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير جعفر بن أبي ثور، فقد احتج به مسلم، وروى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» وقال أبو أحمد الحاكم: هو من مشايخ الكوفيين الذين اشتهرت روايتهم عن جابر، وصحح حديثه هذا مسلم وابن خزيمة والمؤلف وابن منده والبيهقي وغير واحد، فقول الحافظ فيه في «التقريب»: مقبول.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں