صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب الدَّعَوَاتِ وَالتَّعَوُّذِ
باب: دعاؤں اور اعوذ باللہ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2705 ترقیم شاملہ: -- 6869
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا "، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ،
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمخ نے کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: مجھے ایک ایسی دعا سکھائیے جو میں نماز میں مانگا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہا کرو: «اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرة من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم» اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی بھی گناہ نہیں بخش سکتا، تو اپنی طرف سے (رحمت کرتے ہوئے) میرے گناہ بخش دے اور مجھ پر رحم فرما! بےشک تو بہت بخشنے والا، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6869]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو، اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت بڑا ظلم کیا ہے (قتیبہ کی روایت میں ہے: بہت ظلم کیے ہیں) اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا، اس لیے تو اپنے پاس سے مجھے مغفرت عنایت فرما اور مجھ پر رحم فرما، کیونکہ تو ہی بخشنے والا، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6869]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2705 ترقیم شاملہ: -- 6870
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقَولُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ظُلْمًا كَثِيرًا.
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ایک آدمی نے جس کا انہوں نے نام لیا اور عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی اور انہوں نے ابوالخیر سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی دعا سکھائیے جس کو میں اپنی نماز میں بھی مانگا کروں اور اپنے گھر میں بھی مانگا کروں۔ پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ مگر انہوں نے (بغیر شک کے) «ظلما کثیرا» (بہت ظلم کیا) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6870]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیں، جو میں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں مانگوں“، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ظُلْمًا كَثِيرًا» ”بہت ظلم کیے ہیں۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6870]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 589 ترقیم شاملہ: -- 6871
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ " اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ "،
ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اللہ تعالیٰ سے) یہ دعائیں مانگا کرتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من فتنة النار وعذاب النار، وفتنة الغنٰی وشر فتنة الفقر، واعوذ بک من شر فتنة المسیح الدجال، اللہم اغسل خطایای بماء الثلج والبرد، ونق قلبی من الخطایا کما نقیت الثیاب البیضاء من الدنس، وباعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب، اللہم انی اعوذ بک من الکسل وھرام السقم والمعصوم والمأثم وغلبة الدین» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے اور غنا کی آزمائش کے شر سے اور فقر کی آزمائش کے شر سے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں جھوٹے مسیح کے فتنے کی برائی سے۔ اے اللہ! میری خطائیں برف اور اولوں (کے پانی) سے دھو دے، اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف ستھرا کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ ڈال دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ڈالا ہے۔ اے اللہ! میں سستی، عاجز کر دینے والے بڑھاپے، گناہ اور قرض (کے غلبے) سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6871]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے آگ کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے، قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے اور تونگری کے فتنہ کے شر سے اور فقر و تنگدستی کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے گناہ برف کے پانی اور برودت (اولوں) سے دھو ڈال اور میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے، جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی، کاہلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور گناہ سے اور قرض سے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 589 ترقیم شاملہ: -- 6872
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6872]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة