🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

176. باب أحكام الجنب - ذكر ما يستحب للمرء إذا كان جنبا وأراد النوم أن يتوضأ وضوءه للصلاة ثم ينام
جنابت (جنبی ہونے) کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر آدمی جنب ہو اور سونا چاہے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ نماز کا وضو کرے پھر سوجائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1218
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، لَمْ يَنَمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ وَأَكَلَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک وضو نہیں کر لیتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنابت کی حالت) میں کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھ دھو کر کھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، 1218، 2589، 2593، 2638، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، 228، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، 454، 455، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717» «رقم طبعة با وزير 1215»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (390)، «صحيح أبي داود» (219 - 220). * [وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ] قال الشيخ: زاد أبو داود: (وهو جنب)، وهذه الزيادة مُهِمَّةٌ؛ لأنَّ دِلالةَ الحديثِ تَختلفُ بوجودِها؛ كما كنتُ بَيَّنتُه في «الصحيحة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں