🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

177. باب غسل الجمعة
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلَمْ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ غُسْلٌ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہر مسلمان پر سات دنوں میں ایک بار غسل کرنا لازم ہے، اور یہ جمعہ کا دن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1746، 1747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1219، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1377، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1681، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14487» «رقم طبعة با وزير 1216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1/ 173).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن أبا الزبير مدلس وقد عنعنه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْغُسْلُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ إِتْيَانُ الْجُمُعَةِ فَرْضٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ، وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ الاحْتِلامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى بَلَغَ الصَّبِيُّ وَأَدْرَكَ، بِأَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً كَانَ بَالِغًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلَمْا، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ سورة النور آية 59، فَأَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي هَذِهِ الآيَةِ بِالاسْتِئْذَانِ مَنْ بَلَغَ الْحُلَمْ، إِذِ الْحُلَمْ بُلُوغٌ، وَقَدْ يَبْلُغُ الطِّفْلُ دُونَ أَنْ يَحْتَلَمْ، وَيَكُونُ مُخَاطَبًا بِالاسْتِئْذَانِ كَمَا يَكُونُ مُخَاطَبًا عِنْدَ الاحْتِلامِ بِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر بالغ شخص کو جمعہ کے لیے جانا لازم ہے، اور جو شخص (جمعہ ادا کرنے کے لیے) جائے اس پر غسل کرنا لازم ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر بالغ شخص پر جمعے کی نماز کے لیے آنا فرض ہے، اس میں علت یہ ہے کہ احتلام ہونا بالغ ہونے کا نشان ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ بالغ ہو جائے یا عمر کے اعتبار سے پندرہ سال کا ہو جائے، تو وہ بالغ شمار ہو گا، اگرچہ اسے احتلام نہ ہوا ہو۔ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ [سورة النور: 59] اور جب تمہارے بچے بالغ ہو جائیں، تو وہ اجازت طلب کریں گے جس طرح ان لوگوں نے اجازت لی جن کا ذکر پہلے ہوا ہے۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم اس شخص کو دیا ہے، جو بالغ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں لفظ «الْحُلُمِ» سے مراد بالغ ہونا ہے اور بعض اوقات بچہ احتلام کے بغیر بالغ ہو جاتا ہے اور وہ اجازت لینے کے حکم کا مخاطب بن جاتا ہے جس طرح احتلام کے ہمراہ اس حکم کا مخاطب بنتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 316، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1721، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1220، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1370، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1672، وأبو داود فى (سننه) برقم: 342، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5658» «رقم طبعة با وزير 1217»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (370).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يزيد بن موهب ثقة، وباقي رجال الإسناد على شرط الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں