صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
215. باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن اغتسال الجنب في البئر ينجس ما فيه من الماء
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ جنب کا کنویں میں غسل کرنا اس کے پانی کو نجس کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 1258
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ، مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُكَ، فَحِدْتَ عَنِّي"، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوتی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے آپ کو صبح کے وقت دیکھا تو میں آپ کے سامنے آنے سے ہٹ گیا، پھر میں دن چڑھنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا تھا، تم میرے سامنے سے ہٹ گئے تھے۔“ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھے مس نہ کر دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 372، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1258، 1369، 1370، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 267، وأبو داود فى (سننه) برقم: 230، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 535، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23736» «رقم طبعة با وزير 1255»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (225): م مختصرا دون الشطر الأول منه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، جرير: هو ابن عبد الحميد، والشيباني: هو أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان الكوفي، وأبو بردة هو أبي موسى الأشعري.