صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
271. باب التيمم - ذكر الإباحة للمسافر أن ينزل في منزل بسبب من أسباب هذه الدنيا وهو غير واجد الماء
تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ دنیاوی کسی وجہ سے کسی جگہ اترے جبکہ اسے پانی نہ ملے
حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسَ هُمْ عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أُنَاسٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالُوا: أَلا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، " فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا" . قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے ہم ”بیداء“ کے یا شاید ”ذات الجیش“ کے مقام پر پہنچے تو بار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار کی تلاش میں وہاں پڑاؤ کر لیا۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ وہاں رک گئے۔ وہاں آس پاس پانی نہیں تھا۔ لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو یہاں رکنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ عائشہ پر) ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا: وہ اپنا ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لئے نہیں کی تھی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میری گود) میں سر رکھ کر سو رہے تھے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو صبح کا وقت ہو گیا تھا اور پانی موجود نہیں تھا، تواللہ تعالیٰ نے تیمم کے حکم سے متعلق آیت نازل کر دی تو لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر سیدنا اسید بن حضیر جو نقباء میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے یہ کہا: ہے اے آل ابوبکر یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس اونٹ پر میں سوار تھی جب ہم نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہمیں ہار مل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1314»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (1297). استدراك على الشيخ الألباني!! قال الشيخ الألباني بعد أن وضع معقوفة في بداية عنوان هذا الحديث ومعقوفة آخر الحديث ما عدا قول أسيد بن حضير قال: {ما بين المعقوفين سقط من «طبعة المؤسسة»، وقد تقدم بتمامه - مكررا - برقم (1297)}. بل هو موجود سندا ومتنا وعنوانا في نفس الموضع، ورقمه هو (1317) المجلد الرابع (صـ 146). ملحوظة رقم (1297) = (1300) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.