صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
273. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر البيان بأن المسح على الخفين إنما أبيح عن الأحداث دون الجنابة
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ موزوں پر مسح کرنا صرف احداث سے جائز ہے، جنابت سے نہیں
حدیث نمبر: 1319
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِينِ، فَقَالَ: مَا غَدَا بِكَ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الَمْلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلَمْ رِضًا بِمَا يَصْنَعُ" . فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِينِ، فَقَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمْسَحَ ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا، وَلا نَنْزِعُهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلا بَوْلٍ وَلا نَوْمٍ، وَلَكِنْ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ ان سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کروں۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم کے حصول کے لئے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طالب علم کے عمل سے راضی ہو کے فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول نے یہ حکم دیا تھا ہم سفر کر رہے ہوں، تو تین روز اور جب ہم مقیم ہوں، تو ایک دن رات تک مسح کر سکتے ہیں۔ ہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے (کی وجہ سے وضو کرتے ہوئے انہیں اتاریں گے البتہ جنابت (کی صورت میں انہیں اتار کر پاؤں کو دھویا جائے گا) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1316»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (104).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود، فإن حديثه لا يرقى إلى الصحة.