صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
375. باب الاستطابة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سليمان الأعمش
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر سلیمان اعمش نے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 1429
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ، قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، " فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، قَالَ: فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملے میں نہایت سختی کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے: بنی اسرائیل میں سے اگر کسی شخص کی کھال پر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ قینچی کے ذریعے اسے کاٹ دیا کرتا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ تمہارے صاحب (یعنی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) اس معاملے میں اتنی سختی نہ کرتے، کیونکہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے پیچھے کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے پیشاب کیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کے لئے پردہ کیا، تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ میں آگے آیا اور پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 224، 225، 226، 2471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 273، وابن الجارود فى "المنتقى"، 39، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 52، 61، 63، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1424، 1425، 1427، 1428، 1429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 18، وأبو داود فى (سننه) برقم: 23، والترمذي فى (جامعه) برقم: 13، 13 م 1، 13 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 305، 306، 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18437» «رقم طبعة با وزير 1426»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.