Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ اخبار کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَكِّرُوا بِالصَّلاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلاةَ فَقَدْ كَفَرَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَطْلَقَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ عَلَى تَارِكِ الصَّلاةِ، إِذْ تَرْكُ الصَّلاةِ أَوَّلُ بِدَايَةِ الْكُفْرِ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا تَرَكَ الصَّلاةَ وَاعْتَادَهُ ارْتَقَى مِنْهُ إِلَى تَرْكِ غَيْرِهَا مِنَ الْفَرَائِضِ، وَإِذَا اعْتَادَ تَرْكَ الْفَرَائِضِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ النِّهَايَةِ الَّتِي هِيَ آخِرُ شُعَبِ الْكُفْرِ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي هِيَ أَوَّلُ شُعَبِهَا وَهِيَ تَرْكُ الصَّلاةِ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بادل والے (یعنی ابر آلود) دن میں نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو، کیونکہ جو شخص نماز کو ترک کر دے اس نے کفر کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو ترک کرنے والے پر کفر کا اطلاق کیا ہے کیونکہ نماز کو ترک کرنا کفر کے آغاز کا ابتدائی حصہ ہے کیونکہ جب کوئی شخص نماز کو ترک کرتا ہے اور اس کی عادت بنا لیتا ہے، تو وہ دیگر فرائض کو ترک کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے اور جب وہ فرائض ترک کرنے کی عادت بنا لیتا ہے، تو یہ چیز اسے انکار کی طرف لے جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختتامی نام کو جو کفر کے شعبوں میں سے آخری حصہ ہے اسے ابتداء کیلئے استعمال کیا ہے، جو اس کا پہلا شعبہ ہے اور وہ نماز کو ترک کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1461»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح؛ دون جملة التبكير؛ فهي موقوفة - «الإرواء» (1/ 276 / 255)، «التعليق الرغيب» (1/ 169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، إسحاق بن إبراهيم: قال أبو حاتم: شيخ لا بأس به، ولكنهم يحسدونه، سمعت يحيى بن معين أثنى عليه خيراً، وقال مسلمة: ثقة، وقال النسائي: ليس بثقة إذا روى عن عمرو بن الحارث، وسئل عنه أبو داود، فقال: ليس بشيء، ونقل تكذيبه عن ابن عوف، وباقي السند رجاله رجال الصحيح، وعم أبي قلابة: هو أبو المهلب الجرمي: ثقة من رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں