Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك إنشاء الصلاة النافلة في أوقات معلومة
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ معلوم اوقات میں نفلی نماز شروع کرنے سے گریز کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّطَوِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمْةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ:" مَا هُوَ؟"، قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاةُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ، فَدَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ لِقَرْنِ الشَّيْطَانِ، ثُمَّ صَلِّ وَالصَّلاةُ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِيَ الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ، فَإِذَا كَانَتْ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلاةَ، فَإِنَّهَا السَّاعَةُ الَّتِي تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمَ، وَيُغَمُّ فِيهَا زَوَايَاهَا حَتَّى تَزِيغَ، فَإِذَا زَاغَتْ فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیا چیز ہے۔ انہوں نے عرض کی: کیا رات اور دن کے اوقات میں کوئی گھڑی ایسی ہے، جس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو نماز کو ترک کر دو یہاں تک کہ سورج شیطان کے سینگ سے طلوع ہو جائے پھر تم نماز ادا کر سکتے ہو اور نماز قبول کی جائے گی یہاں تک کہ سورج تمہارے سر کے اوپر نیزے کی طرح بالکل برابر ہو جائے جب وہ تمہارے سر پر نیزے کی طرح ہو جائے، تو تم نماز کو ترک کر دو، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، اور اس کے گوشوں کو ملایا جاتا ہے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے جب وہ ڈھل جائے، تو نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے، اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو پھر نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کے سورج غروب ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1540»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1371).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، يحيى بن المغيرة: صدوق، روى له الترمذي، وباقي السند رجاله رجال الصحيح إلا أن الضحاك بن عثمان فيه كلام ينزله عن رتبة الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں