🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

139. باب الجمع بين الصلاتين - ذكر وصف الجمع بين المغرب والعشاء إذا أراد المسافر ذلك
نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس حالت کا ذکر کہ اگر مسافر چاہے تو مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ، فِيصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الثَّقَفِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: عَلَيْهِ عَلامَةُ سَبْعَةٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، كَتَبُوا عَنِّي هَذَا الحديث أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَالْحُمَيْدِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرنا ہوتا، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے تھے اور ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرنا ہوتا، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد پھر روانہ ہوتے تھے۔ اسی طرح جب آپ نے مغرب سے پہلے کوچ کرنا ہوتا، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے اور جب آپ نے مغرب کے بعد کوچ کرنا ہوتا تھا تو عشاء کی نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے اور اسے مغرب کے ہمراہ پڑھ لیتے تھے۔ میں نے سنا محمد بن اسحاق ثقفی کہتے ہیں میں نے قتیبہ بن سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اس پر سات حافظان حدیث کی علامت ہے جنہوں نے میرے حوالے سے اس حدیث کو نوٹ کیا ہے (وہ حضرات یہ ہیں) أحمد بن حنبل، یحیی بن معین، حمیدی، ابوبکر بن ابوشیبہ، ابوخیثمہ، یہاں تک کہ انہوں نے سات افراد گنوائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، 1591، 1593، 1595، 6537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، 1208، 1220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، 554، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، 1463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419» «رقم طبعة با وزير 1591»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (578)، «صحيح أبي داود» (1106).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، رجاله ثقات، رجال الستة، وقد أعله الحاكم بما لا يقدح في صحته.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں