🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. باب الجمع بين الصلاتين - ذكر الإباحة للمرء أن يعمل العمل اليسير بين الصلاتين إذا أراد الجمع بينهما
نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ دو نمازوں کے درمیان ہلکا کام کرے اگر وہ انہیں جمع کرنا چاہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلاةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَرَكِبَ، فَلَمْا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ، فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے تو آپ سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو میں اسباغ نہیں کیا۔ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: نماز؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جا کے ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، جب آپ مزدلفہ آئے تو سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اس میں اسباغ کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہر شخص نے اپنی رہائشی جگہ پر اونٹ کو باندھ دیا، پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 139، 181، 1666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1280، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 64، 973، 2824، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1594، 3857، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1715، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1921، 1923، 1924، 1925، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3017، 3019، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1854» «رقم طبعة با وزير 1592»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1681): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں